چھ دہائیوں تک لازوال اداکاری؛ طلعت حسین کی والدہ ان کے شوبز میں آنے کے خلاف تھیں
شوبز

چھ دہائیوں تک لازوال اداکاری؛ طلعت حسین کی والدہ ان کے شوبز میں آنے کے خلاف تھیں

Omair AlaviOmair Alavi
0 Views

کراچی — یہ بات سال 2006 کی ہے جب طلعت حسین نے ناروے میں بننے والی فلم امپورٹ ایکسپورٹ پر بہترین معاون اداکار کا ایمانڈا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔ اس ایوارڈ کے بارے میں پاکستان میں زیادہ لوگوں کو معلوم نہیں تھا۔ اس لیے جب میں نے انٹرویو کے لیے انہیں رجوع کیا تو انہوں نے پہلے حیرت اور پھر خوشی کا اظہار کیا۔ کراچی کی شارع فیصل پر واقع ان کے گھر پر جاکر جب میں نے ان سے اس ایوارڈ کی اہمیت کے بارے میں مزید پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ میاں، یہ اسکینڈی نیویئن ممالک کا آسکر ہے۔ یعنی یہ ناروے، ڈنمارک اور سوئیڈن میں بننے والی فلموں کو دیا جانے والا سب سے معتبر ایوارڈ ہے۔ ایک پاکستانی اداکار کے لیے اتنا بڑا ایوارڈ جیتنا کسی اعزاز سے کم نہیں تھا۔ لیکن طلعت حسین کے لیے یہ ایک اور ایوارڈ تھا۔ وہ جتنے پاکستان میں مقبول تھے، اتنے ہی پاکستان سے باہر بھی۔ وہ 1998 مین ریلیز ہونے والی انگریزی فلم جناح میں ایک چھوٹے مگر طاقت ور کردار میں بھی نظر آئے جب کہ 1989 میں بھارتی فلم سوتن کی بیٹی میں انہوں نے جتیندر، ریکھا اور جیہ پردا جیسے اداکاروں کے سامنے اپنا لوہا منوایا۔

ان کے انٹرنیشنل کریئر کا سب سے بڑا کردار بلاشبہ برطانوی نشریاتی ادارے ’چینل فور‘ کے لیے بننے والی منی سیریز ٹریفک میں تھا جس میں انہوں نے مرکزی ولن کا کردار بخوبی نبھایا تھا۔ سن 1989 میں بننے والی اس منی سیریز میں پاکستانی اداکاروں جمال شاہ، فریال گوہر، راحت کاظمی اور شکیل نے بھی اداکاری کی تھی لیکن مرکزی ہیروئن اسمگلر طارق بٹ کے روپ میں طلعت حسین خوب جچے۔ پاکستان میں بھی انہوں نے ساٹھ سالہ کریئر میں کئی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں لازوال ادکاری کی۔ 1990 کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے کشکول میں ’عالی جاہ‘ کا کردار ہو یا ہوائیں میں میر محمد کا، وہ ہر کردار میں منفرد ہی نظر آئے۔

ان کے انٹرنیشنل کریئر کا سب سے بڑا کردار بلاشبہ برطانوی نشریاتی ادارے ’چینل فور‘ کے لیے بننے والی منی سیریز ٹریفک میں تھا جس میں انہوں نے مرکزی ولن کا کردار بخوبی نبھایا تھا۔ سن 1989 میں بننے والی اس منی سیریز میں پاکستانی اداکاروں جمال شاہ، فریال گوہر، راحت کاظمی اور شکیل نے بھی اداکاری کی تھی لیکن مرکزی ہیروئن اسمگلر طارق بٹ کے روپ میں طلعت حسین خوب جچے۔ پاکستان میں بھی انہوں نے ساٹھ سالہ کریئر میں کئی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں لازوال ادکاری کی۔ 1990 کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے کشکول میں ’عالی جاہ‘ کا کردار ہو یا ہوائیں میں میر محمد کا، وہ ہر کردار میں منفرد ہی نظر آئے۔

اپنے منفرد اسٹائل کی وجہ سے طلعت حسین ہر دور میں مقبول رہے۔ ان کا مکالمہ بولتے بولتے رک جانا ان کا ایک ایسا اسٹائل تھا جسے کئی افراد نے کاپی کیا۔ جب ان سے اس ‘پاز’ یعنی بات کرتے ہوئے رک جانے پر میں نے پوچھا تو انہوں نے اپنے مشہور ڈرامے انسان اور آدمی کی مثال دی، جس میں وہ ایک سوشل ورکر کے کردار میں نظر آئے تھے۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اس سیریز کی ہر قسط کے آغاز میں ان کی انٹری اس وقت ہوتی تھی جب متاثرہ خاندان کسی مشکل وقت سے گزر رہا ہوتا تھا اور وہ انہیں دیکھ کر اپنی کہانی سناتے تھے۔ اس مصیبت زدہ خاندان کی کہانی سن کر ردعمل دینے سے پہلے وہ ایک پاز لیتے تھے، جو بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔

طلعت حسین کے کریئر کا آغاز ریڈیو سے ہوا اٹھارہ ستمبر 1940 کو دہلی میں پیدا ہونے والے طلعت حسین جب اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو اس وقت ان کے والد الطاف حسین وارثی سول سرونٹ تھے اور والدہ شائستہ بیگم ریڈیو پر پروگرام کرتی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد ان کی والدہ ریڈیو پاکستان کراچی سے منسلک ہوگئیں اور خبریں پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں سے بھی کئی برس تک وابستہ رہیں۔ فنون لطیفہ سے محبت کرنے والے ماحول میں پرورش پانے والے طلعت حسین نے جب اس فیلڈ میں آنے کی خواہش ظاہر کی تو ان کی والدہ نے اس کی مخالفت کی۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا ان کے شوہر کی طرح سول سروس میں جائے۔ لیکن بیٹے کی ضد کے سامنے وہ بے بس تھیں۔


پچاس کی دہائی میں طلعت حسین نے ‘اسکول براڈ کاسٹ ‘ نامی ریڈیو پروگرام سے کریئر کا آغاز کیا جس کے بعد ان کے لیے منزلیں آسان ہوتی گئیں۔ سن 1962 میں انہوں نے ہدایت کار فضل کریم فضلی کی چراغ جلتا رہا سے فلمی کرئیر کا آغاز کیا۔ یہ وہی فلم تھی جس نے محمد علی، زیبا بیگم، دیبا بیگم اور کمال ایرانی جیسے اداکاروں کو متعارف کرایا۔ بعد میں محمد علی اور طلعت حسین نے فلم انسان اور آدمی میں باپ بیٹے کا کردار بھی نبھایا جب کہ زیبا بیگم اس فلم میں ان کی ماں کے کردار میں نظر آئیں۔

ساٹھ کی دہائی میں جہاں انہوں نے وحید مراد کی بطور ہدایت کار فلم اشارہ میں بھی معاون کردار ادا کیا وہیں کلر فلموں کے آنے کے بعد ہدایت کار پرویز ملک کی لاتعداد ہٹ فلموں میں بھی اداکاری کی جن میں مرکزی ہیرو اداکار ندیم ہوا کرتے تھے۔

پچاس کی دہائی میں طلعت حسین نے ‘اسکول براڈ کاسٹ ‘ نامی ریڈیو پروگرام سے کریئر کا آغاز کیا جس کے بعد ان کے لیے منزلیں آسان ہوتی گئیں۔ سن 1962 میں انہوں نے ہدایت کار فضل کریم فضلی کی چراغ جلتا رہا سے فلمی کرئیر کا آغاز کیا۔ یہ وہی فلم تھی جس نے محمد علی، زیبا بیگم، دیبا بیگم اور کمال ایرانی جیسے اداکاروں کو متعارف کرایا۔ بعد میں محمد علی اور طلعت حسین نے فلم انسان طلعت حسین کی اداکاری سے تو لوگ واقف تھے ہی، حال ہی میں ان کی لکھی گئی تحریروں پر ان کے شاگردوں کلثوم آفتاب اور فواد خان نے صندوق کے عنوان سے ڈرامہ بھی کیا جس میں ان کی لکھی گئی کہانیوں کو منفرد انداز میں پڑھا گیا۔ آدمی میں باپ بیٹے کا کردار بھی نبھایا جب کہ زیبا بیگم اس فلم میں ان کی ماں کے کردار میں نظر آئیں۔


نوے کی دہائی میں انہوں نے متعدد ڈراموں کی ہدایت کاری بھی کی جس میں سے ایک معروف انگریزی مصنف چارلس ڈکنز کے ناول ‘گریٹ ایکس پیکٹیشنز ‘کی ڈرامائی تشکیل تھی تو دوسری مصنف جیفری آرچر کے ناول ‘نہ کم نہ زیادہ کی’۔